Fazelat Fatima Zahra s.a

🌹 فضیلتِ سیّدہ فاطمہؑ 🌹

رسول اکرمؐ نے فرمایا.....
●فاطمہؑ میرا ٹکڑا ہے، جس نے اسے غضب ناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا.(1)

●ایک دن پیامبرؐ نے فاطمہؑ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور یوں فرمایا:
جس نے اسے پہچان لیا تو حق ادا کردیا اور جو اسے نہیں جانتا وہ سن لے، یہ فاطمہؑ مجھ محمدؐ کی بیٹی ہے، یہ میرا ٹکڑا ہے، یہ میرا دل ہے، جس نے بھی اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی.(2)

●جابربن عبدالله کہتےہیں؛ پیغمبرؐ نے فرمایا:
فاطمہؑ میری رگِ حیات ہے، جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی، جس نے مجھے اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی، جس نے خدا کو اذیت دی آسمان و زمین اس پر لعنت کرتے ہیں.(3)

●ابن فتال نیشاپوری پیغمبرؐ کی حدیث کہ جو حضرت علیؑ سے فرمایا، بیان کرتا ہے:
اے علیؑ! فاطمہؑ میرا ٹکڑا، میری آنکھوں کا نور اور میرے دل کی ٹھنڈک ہے.(4)

●امام حسینؑ پیغمبرؐ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
فاطمهؑ باعثِ خوشحالی ہے، اسی طرح اس کے دو بیٹے میرے دل کی ٹھنڈک اور ان کے شوہر میری آنکھوں کا نور ہیں.(5)

●خطیب بغدادی پیغمبرؐ کی معراج کے بارے میں یوں روایت کرتے ہیں:
جس رات میں معراج پر گیا تو دیکھا بہشت کے دروازے پر یہ لکھا تھا: 
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، علیؑ اللہ کے حبیب ہیں، حسنؑ و حسینؑ اللہ کے صفی ہیں، فاطمہؑ اللہ کی منتخب شدہ ہیں اور ان سے بغض رکھنے والے پہ اللہ کی لعنت ہے.(6)

●طبری، بشارةالمصطفیٰ میں امام زین العابدینؑ سے اور اسی طرح وہ اپنے بابا سے یہ سلسلہ رسولِ خدا تک پہنچتا ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں.(7)

●انس بن مالک رسولِخداؐ سے روایت کرتے ہیں:
میری امت کی خواتین میں میری بیٹی فاطمہؑ کا مقام سب سے بلند ہے.(8)

●ایک اور روایت میں یوں فرمایا:
پورے عالم کے مردوں میں سے بہترین مرد علیؑ ہے اور خواتین میں سے فاطمہؑ ہیں.(9)

●اسی طرح حضرت فاطمہ کی شخصیت کے بارے فرمایا:
اگر سب اچھائیاں اور اخلاقی فضائل کو مجسم کیا جائے تو وہ فاطمہؑ ہیں بلکہ فاطمہؑ کا مقام اس سے بھی بالاتر ہے.(10)

●احتضار کی حالت میں رسولِخداؐ نے مولائے کائنات علی بن ابی طالبؑ سے فرمایا:
اے علی! فاطمہؑ تمہارے پاس خدا اور اس کے رسول کی امانت ہے، پس اس امانت کا خاص خیال رکھنا کیونکہ فاطمہؑ مریمِ کبریٰ ہے.(11)

●شیخ طوسی نے عبدالله بن حارث بن نوفل سے نقل کیا ہے کہ میں نے سعد بن مالک سے سنا کہ اس نے کہا کہ میں نے رسولِخداؐ سے سنا:
فاطمةُ بضعةٌ منّی مَن سَرَّها فَقَد سَرَّنی و مَن ساءها فَقَد ساءنی،فاطمة أَعزُّ البریّة عَلَیَّ.
فاطمہؑ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے خوش کیا اس نے مجھے خوش کیا جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی. فاطمہؑ لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے.(12)

●علّامه مجلسی اسامہ سےنقل کرتےہیں:
ایک دن مسجد نبوی کے قریب سے گذرا تو علی اور عباس کو بیٹھے دیکھا جیسے ہی مجھے دیکھا تو کہا کہ ہمارے لیے پیغمبرؐ سے ملاقات کا وقت لو.
کہتا ہے میں نے رسولِخداؐ سے عرض کیا کہ علی اور عباس ملاقات کی اجازت مانگ رہے ہیں تو پیغمبرؐ نے فرمایا:
کیا جانتے ہو کس چیز نے انہیں اس مقام تک پہنچایا؟
میں نے کہا خدا جانتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم، پس انہیں اجازت ملی.
اور دونوں اندر آئے اور سلام کیا پھر احترام کے ساتھ سامنے بیٹھ گئے اور عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ آپ کے نزدیک محبوب ترین کون ہے؟
پیغمبرؐ نے جواب میں فرمایا: فاطمہؑ(13)

حوالہ جات:
1)صحیح بخاری، ج 2، ص:302؛ حلیةالأولیاء، ج 2، ص:40؛ وتهذیب التّهذیب، ج 12، ص 469.
2)بحارالأنوار، ج43، ص:80.
3)بحارالأنوار، ص:54.
4)روضةالواعظین، ص:150.
5)مقتل الحسین خوارزمی، ج1، ص:59.
6)تاریخ بغداد، ج1، ص:259.
7)بشارةالمصطفی، ص:24.
8)احقاق الحق، ج10، ص:115.
9)احقاق الحق، ج25، ص:37.
10)مقتل الحسین خوارزمی، ج1، ص:60.
11)فاطمةالزّهراء، ص:58.
12)بحارالأنوار، ج43، ص:23.
13)گزشتہ، ص 68 و ذخایر العقبی، ص:35.

Post a Comment

0 Comments